فاریکس مارکیٹ بین الاقوامی مبادلہ مارکیٹ ہے۔ جو کہ انگریزی حرف فارن ایکسینج کا مخفف ہے۔ یہ ابتدائی فاریکس مارکیٹوں میں سے ہے۔ جو کے 70 کے دہائی سے کام کررہی ہے۔جس کہ وجہ سے یہ وسیع ترین اور مسلمل ترقی کی طرف گامزن ہے۔ اس کا روزانہ کا والیم تقریبا 4 ٹریلین ڈالرز ہے۔ جو کے امریکہ کی سٹاک مارکیٹ سے 30 گنا ذیادہ ہے۔.
آپ کی معلومات کے لئے : انسٹا فاریکس 117 سے ذائد کرنسی پئیسر میں تجارت کے سہولت دیتی ہے جں میں لوکل کرنسیز کے ایک طویل فہرست شامل ہے۔
دوسری مارکیٹوں کی طرح فاریکس چند ٹھوس اشیاء میں تجارت ہو تی ہے۔ بیرونی ایکسینج مارکیٹ کی صورت میں یہ مختلف ممالک کی کرنسیاں بھی ہو سکتی ہیں۔.
کرنسی کی تجارت کی اہم وجہ ریاستی عناصر اور نڑی کمپنیوں کے مفادات ہیں۔نفع5% اور 95% کے تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔ جو کے فریقین میں تقسیم ہوتا ہے۔.
فارن ایکسینج کا ایک امتازی پہلو اس کے پائیداری ہے۔البتہ جو چیز ذیادہ اہم ہے وہ خطرناک ہے اور اس کے تجارتی حجم کمی ہے۔ البتہ یہ مارکیٹ دوسری مارکیٹوں کے نسبت ذیادہ پائیدار اور قالب اقتبار ہے۔ اگر شیئر کی قیمت گرتی ہے تو ا س کا مطلب معاشی نقصان ہے اور اگر ڈالر کی قیمت گرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کی کسی اور کرنسی کے قیمت بڑھ رہی ہے۔جس سے اضافی نفع کا موقع ضرور ملتاہے۔ کرنسی میں کام دوسرے تمام کاموں میں سے ذیادہ نفع بخش ہے۔
آپ : سی ایف ڈی یا کسی دوسری چیز میں تجارت کو ترجیح دیتے ہیں تو اس کے تفصیل بھی آپ کو انسٹا فاریکس میں مل سکتی ہے۔.
سرمایہ کار عموما میجر اور بیسک کرنسیز میں لگاؤ رکھیتے ہیں۔ آجکل 85% سے ذائد کاروبار اہم بنیادی کرنسیوں میں ہوتا ہے جیسے کہ ڈالر’جاپانی ین ’ یورو ’ پاونڈ’سوئس فرانک’کینڈین ڈالر اور آسٹریلین ڈالر شامل ہیں۔.
فاریکس کا کام ہر جگہ ہوتا ہے جو کہ انٹرنیٹ کے بدولت ممکن ہے اور یہ دنیا کے ہر حصہ میں ممکن ہے۔جیسہ کہ پہلے نیان کیا گیا ہے اس مارکیٹ میں آپ کے پاس ہمیشہ حصول نفع کا امکا ن ہو تا ہے۔
سیکیو رٹی کے معاملات :فاریکس میں بذریعہ انٹرنیٹ تجارت انسٹا فاریکس کے ٹاپ نوچ سسٹم کی بدولت مضبوط حفاظت فراہم کرتا ہے۔
حفاظتی معالات : آج کل بذریعہ انٹر نیٹ فاریکس میں تجارت میں کچھ حفاظتی معاملات میں ملوث ہو تے لیکن انسٹا فاریکس کے سسٹم کے ذریعے آپ کی ہر قسم کی معلومات اور رقم مکمل محفوظ ہو تی ہے۔آج کل فاریکس مارکیٹ میں کوئی قابل بروسہ بروکر تلاش کرنا کوئی مشکل کا م نہیں کیونکہ بہت سی کمپنیاں اس کا م کو جاری رکھے ہو ئے ہیں۔لیکن یہ اس شحص پر منحصر ہے کہ جس نے فیصلہ کرنا ہے فاریکس.
* 70 ویں صدی میں دنیا اس سے تب روشناش ہو ئی جب اس وقت کے امریکی صدر نے 15اگست کو اس کام کا آغاذ کیا۔