Support service
×

باب 18 فاریکس پر کموڈیٹیز کرنسیاں

 

باب 18 فاریکس پر کموڈیٹیز کرنسیاں

جیسا کہ ہم پچھلے ابواب سے پہلے ہی جان چکے ہیں، کرنسی کی قیمت کا تعین مختلف عوامل مثلا: معاشی، سیاسی اور کچھ دیگر عوامل سے ہوتا ہے۔ ہر ملک سے متعلق تمام درج عوامل اُس کی قومی کرنسی پر اپنے اپنے انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں - ان میں سے کچھ زیادہ اور کچھ کم ہیں۔ لیکن فاریکس میں کرنسیاں ہیں جن کی قیمتیں بنیادی طور پر ایک عنصر یعنی ملکی برآمدات سے طے ہوتی ہیں۔ اس طرح کی کرنسیوں کو فاریکس پر کمیوڈیٹیز کی کرنسیاں کہا جاتا ہے

کمیوڈیٹیز کی کرنسیوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان ممالک کی معیشتیں خام مال یعنی تیل، گیس، دھاتوں اور زرعی اجناس کی برآمدات پر مبنی ہوتی ہیں۔ بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کی کرنسیاں اس تعریف کے مطابق ہیں۔ برآمدات پر انحصار کرنے والی جدید ترین معیشتیں کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہیں۔ چونکہ ان ممالک کی کرنسی ڈالر (ہر ملک میں مقامی) ہے، اس لیے انہیں کموڈٹی ڈالر یا کمڈول کہنا عام سی بات ہے۔ یہ حقیقت کہ اجناس کی برآمدات ان ممالک ککی معاشی فلاح و بہبود کا بنیادی عنصر ہیں، جب بھی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کی قومی کرنسیوں کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے برعکس کمی کی صورت میں کرنسی میں بھی کمی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اجناس کی کرنسیوں کے ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کے باہمی تعلق (تعامل) کی نشاندہی کرتے ہیں۔

کینیڈین ڈالر (سی اے ڈی)، آسٹریلوی ڈالر (اے یو ڈی) اور نیوزی لینڈ ڈالر (این زیڈ ڈی) فاریکس پر سب سے زیادہ کاروبار کی حامل کرنسیوں میں شامل ہیں۔ لہذا، اجناس کی کرنسیوں کے طور پر ان کی خاصیت کو سمجھنے سے یقینی طور پر کرنسی مارکیٹ میں کامیاب تجارت میں مدد ملے گی۔ اب آئیے ہر اجناس کی کرنسی پر الگ الگ غور کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو تفصیلی بیان کرتے ہیں۔

کینیڈا سعودی عرب کے بعد تیل کے دوسرے سب سے بڑے ذخائر رکھنے کی وجہ سے مشہور ہے۔ تیل کو "کالا سونا" کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ دُنیا بھر میں اس کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ لہذا، اپنے فائدہ مند مقام کی وجہ سے، کینیڈا دنیا میں تیل برآمد کرنے والا بڑا ملک مانا جاتا  ہے۔ امریکہ کو کینیڈا کا بڑا درآمد کنندہ ہونے کی وجہ سے وسائل کی قلت ہے۔ لہذا، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ متضاد سمت میں یو ایس ڈی / سی اے ڈی پئیر کی شرح تبادلہ کی عکاس ہے۔ کینیڈین ڈالر کی قدر میں اضافے کے درمیان تیل کی قیمتوں میں اضافے سے یو ایس ڈی/سی اے ڈی کمزور ہو جاتا  ہے۔ تیل کی قیمت اور یو ایس ڈی / سی اے ڈی کی شرح کے درمیان الٹت تعلق ہے۔ جنوری 1988 سے تجزیہ کاروں نے تیل کی متحرک اور امریکی ڈالر/سی اے ڈی کے درمیان 68 فیصد سے زیادہ معکوس باہمی تعلق نوٹ ہے- یہ بلکہ مضبوط باہمی تعلق ہے! اگر آپ اس حقیقت کو جانتے ہیں، تو یہ آپ کو فاریکس پر یو ایس ڈی / سی اے ڈی کی بہترین پیشگوئی کرنے میں بہت مدد کرے گی۔

آسٹریلیا کی معیشت کا زیادہ تر انحصار ریفائنڈ سونے کی برآمدات پر ہے جو ملکی برآمدات کا 50 فیصد سے زائد ہے۔ ایسا سونے کے میدان ہیں جو آسٹریلیا کی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے اس کے پاس ہے۔ سونے کی عالمی قیمت اور  اے یو ڈی / یو ایس ڈی کی شرح تیل کی قیمت اور امریکی ڈالر / سی اے ڈی پئیر کے مقابلہ زیادہ مضبوط باہمی تعلق رکھتی ہے. جنوری 1980 سے 2006 تک اے یو ڈی/ یو یو ایس ڈی اور سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ تقریبا برابر رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ رجحان بھی تھا کہ سونے کے رجحان میں تبدیلی اے یو ڈی/ یو ایس ڈی میں رجحان کی تبدیلی پہلے ہوتی ہے۔ 2005/2006 میں سونے کی قیمت میں اضافے پر باہمی تعلق تبدیل ہو گیا جبکہ آسٹریلوی ڈالر بمقابلہ امریکی ڈالر کا کوئی رجحان نہیں تھا۔ اس کے باوجود، باہمی تعلق طویل مدتی ہے اور فاریکس پر ایک اضافی پیشگوئی آلات کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ سونے اور اے یو ڈی/ یو ایس ڈی کی عالمی قیمت کا براہ راست تعلق ہے۔

نیوزی لینڈ کی معیشت کا زیادہ تر انحصار برآمدات کے ساتھ ساتھ اس کے مغربی پڑوسی پر بھی ہے۔ لیکن آسٹریلیا اور کینیڈا کے برعکس نیوزی لینڈ کی برآمدات میں کسی خاص قسم کا خام مال اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ ملک ڈیری کا سامان، گوشت، مچھلی، لکڑی، اون وغیرہ کی ترسیل کرتا ہے۔ فروخت شدہ خام اشیاء کی اتنی بڑی قسم کی وجہ سے کموڈٹی ریسرچ بیورو انڈیکس (سی آر بی انڈیکس) برآمد شدہ اجناس کی قیمتوں اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں قومی کرنسی کی شرح کے درمیان باہمی تعلق کا تعین کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس اشاریہ میں بڑی اجناس شامل ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ دنیا میں افراط زر کی نمو کا اشاریہ ہے۔ سی آر بی انڈیکس ویلیو اور این زیڈ ڈی/یو ایس ڈی کا براہ راست باہمی تعلق ہے۔ یہ علم فاریکس پر تجزیہ اور پیشگوئی کو آسان بنا سکتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ فاریکس پر اجناس کی قیمتوں اور اجناس کی کرنسی کی شرحوں کے درمیان باہمی تعلق کو صرف درمیانی اور طویل مدتت تناظر میں مدنظر رکھنا بہتر ہے۔ اس کے علاوہ یاد رکھیں کہ برآمدات صرف اجناس پر منحصر معیشت کا ایک حصہ ہیں۔ فاریکس پر اجناس کی کرنسیوں کے ساتھ پوزیشن کھولنے یا بند کرنے کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ملکی معیشت پر اثر انداز ہونے والے دیگر عوامل سے آگاہ ہوں، جیسے: ری فنانسنگ ریٹ، ملک میں سیاسی صورتحال وغیرہ۔

اپنی رائے شیئر کریں

آپ کا شکریہ! کیا آپ کچھ شامل کرنا چاہیں گے؟

آپ کو موصول ہونے والے جواب کی درجہ بندی کیسے کریں گے؟

اپنی رائے دیں (اختیاری)

آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے۔
ہمارا آن لائن سروے مکمل کرنے کے لیے وقت نکالنے کا شکریہ۔

smile""