Support service
×

باب 2. فاریکس شرکاء

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ تجارتی فاریکس شروع کرنے سے پہلے ایک نجی سرمایہ کار عالمی کرنسی ایکسچینج مارکیٹ میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔ فاریکس شرکاء کی اقسام کے ساتھ ساتھ مارکیٹ پر ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں بنیادی بات سے آپ کو یہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کرنسی کی شرحیں کیسے تبدیل ہوتی ہیں۔ کرنسی مارکیٹ کے شرکاء کے درمیان تعامل کی ایک قدرے آسان منصوبہِ عمل ذیل میں فراہم کیا گیا ہے۔

بروکریج فرم زرمبادلہ مارکیٹ میں ثالث کے طور پر کام کرتی ہے۔ بروکرز دیگر بڑے فاریکس کھلاڑیوں کے درمیان ثالثوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ کمرشل بینک فاریکس کے اہم شرکاء ہیں۔ وہ کسی ثالث کے بغیر اور اپنے گاہکوں کی طرف سے خرید و فروخت کے سودے کرنے کے مجاز ہیں۔ اگر ان کے پاس شرح تبادلہ پر یا بروکریج کمپنیوں کے ذریعے کوئی معاہدہ ہو تو اس طرح کے سودے براہ راست دوسرے بینکوں کے ساتھ کیے جا سکتے ہیں ۔ یہ تعاون کا ایک آسان طریقہ ہے: کمرشل بینک کا ایک ڈیلنگ ڈیپارٹمنٹ ایک بروکریج کمپنی سے رابطہ کرتا ہے اور معاہدے کی شرائط کے بارے میں پوچھتا ہے جو اس وقت دوسرے بینک پیش کر رہے ہیں۔ اگر معاہدے کی شرائط فریقین کے لئے موزوں ہوں تو بینک  بروکریج کمپنی کے ذریعے معاہدہ بند کر دیتے ہیں، جو کمیشن پر منافع کماتا ہے (عمل میں لائے گئے سوے کا فیصد)۔ اس طرح بروکریج کمپنیاں ایک ایسی جگہ کے طور پر کام کرتی ہیں جہاں کرنسی کے نرخ بنتے ہیں۔ کمرشل بینک بروکریج کمپنیوں سے نرخوں کی سطح کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔

فاریکس کے دیگر بڑے شرکاء مختلف ممالک کے قومی بینک ہیں۔ یہ شرکاء اپنے سرمائے میں اضافہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی قومی کرنسیوں کی شرح تبادلہ کے استحکام کا جائزہ لینے یا موجودہ مالیاتی پالیسی کو ترتیب دینے کے لئے مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ اپنی سرگرمیوں کو پویشیدہ رکھنے کے لئے قومی بینک اکثر براہ راست نہیں بلکہ ایک یا ایک سے زیادہ تجارتی بینکوں کے ذریعے سودے طے کرتے ہیں۔ مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے ترقی یافتہ ممالک کے قومی بینک متحد ہو سکتے ہیں۔

اوپر بیان کردہ تمام فاریکس کھلاڑی فعال شرکاء ہیں۔ وہ نہ صرف فاریکس مارکیٹ میں سودے کرتے ہیں بلکہ اپنی قیمتیں بھی پیش کرتے ہیں۔ ایک قاعدے کے طور پر فعال شرکاء لاکھوں امریکی ڈالر کا استعمال کرتے ہوئے سودے انجام دیتے ہیں اور مارجن ٹریڈنگ کا استعمال نہیں کرتے۔ انہیں بازار بنانے والے یعنی مارکیٹ میکرز بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، غیر فعال مارکیٹ شرکاء بھی ہوتے ہیں جو قیمتوں کا تعین نہیں کرتے ہیں، لیکن صرف فعال شرکاء کی طرف سے پیش کردہ قیمتوں پر لین دین کرتے ہیں

مختلف سرمایہ کاری فنڈز بھی غیر فعال شرکاء ہیں۔ ایسی کمپنیاں اپنے فنڈز مختلف ممالک کی حکومتوں اور کارپوریشنوں کی سکیورٹیز میں لگاتی ہیں اور اس طرح کرنسی کی پیشن گوئیوں پر پیسہ کماتے ہیں۔ جارج سوروس کا کوانٹم فنڈ سرمایہ کاری کے سب سے مشہور فنڈز میں سے ایک ہے۔ سرمایہ کاری فنڈز کے پاس اربوں امریکی ڈالر ہیں۔ مزید برآں وہ اربوں ڈالر ادھار فنڈز جمع کر سکتے ہیں۔ اس لئے سرمایہ کاری فنڈز قومی بینکوں کی مداخلت کے خلاف مزاحمت کر سکتے ہیں۔

غیر فعال مارکیٹ کے شُرکاء کی ایک اور قسم غیر ملکی تجارتی شرکاء ہیں، یعنی وہ کمپنیاں جو اشیاء برآمد یا درآمد کرتی ہیں۔ اگر غیر ملکی کرنسی میں درآمدی تجارت کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے تو یہ کرنسی معاہدہ انجام پانے پہلے خریدی جانی چاہئے۔ تاہم اگر غیر ملکی کرنسی میں برآمدی معاہدہ کیا جاتا ہے تو اس کرنسی کو معاہدے پر عمل درآمد کے بعد فروخت کیا جانا ہے۔ اس طرح کے لین دین تجارتی بینکوں کے ذریعے کی جاتے ہیں۔ غیر فعال شرکاء کی اگلی قسم بین الاقوامی کارپوریشنیں ہیں۔ ان کمپنیوں کے بیرون ملک نمائندہ دفاتر ہوتے ہیں۔ جب فنڈز نمائندہ دفاتر سے ہیڈ دفاتر میں منتقل کیے جاتے ہیں تو کرنسی کا تبادلہ عمل میں آتا ہے۔ وہ تجارتی بینکوں کے ذریعے بھی انجام دیئے جاتے ہیں۔

مرحلہ وار، ہم فاریکس مارکیٹ میں نجی سرمایہ کار کے کردار کو سمجھنے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ایک نجی سرمایہ کار کے پاس عام طور پر اتنا سرمایہ نہیں ہوتا کہ وہ مارکیٹ میں سودے کر سکے (کم از کم تجارتی حجم کرنسی کے 100,000 یونٹس ہے)۔ اسی وجہ سے تاجر بروکر کی خدمات استعمال کرتے ہیں۔ وہ کمرشل بینکوں کے ذریعے خرید و فروخت کے سودے انجام دے سکتے ہیں، لیکن ایک انفرادی سرمایہ کار کے لئے شرح تبادلہ پر منافع کمانا ناممکن ہے۔ کمرشل بینکوں کی شرح تبادلہ دن میں ایک بار تبدیل ہو جاتی ہے اور فروخت اور خریداری کی شرح (سپریڈ) میں فرق بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بروکریج فرمیں وجود میں آئیں ۔ مارجن ٹریڈنگ کی بدولت ایک نجی سرمایہ کار معمولی سرمائے کے ساتھ بھی لین دین ک سکتا ہے اور تجارت کو بند کر سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کی ترقی کے ساتھ ہی بروکریج فرمیں بھی ڈیلنگ سینٹر بن چکی ہیں اور اب ہر ایک کو خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ جس کے پاس کئی ہزار امریکی ڈالر ہیں وہ فاریکس مارکیٹ میں اپنا نصیب آزما سکتا ہے۔ پھر بھی، جلدی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے! ڈیلنگ سینٹرز میں سے کسی ایک میں اکاؤنٹ کھولنے سے پہلے فاریکس مارکیٹ کے بارے میں کچھ مضامین یا کتابیں پڑھنا بہتر ہے، نیز کئی مہینوں تک ڈیمو اکاؤنٹ پر اپنی تجارتی مہارتوں کی مشق کریں۔ ایسا کرنے سے، آپ کو کچھ کھونا نہیں پڑے گا، لیکن منفرد تجارتی تجربہ حاصل ضرور کریں گے۔


اپنی رائے شیئر کریں

آپ کا شکریہ! کیا آپ کچھ شامل کرنا چاہیں گے؟

آپ کو موصول ہونے والے جواب کی درجہ بندی کیسے کریں گے؟

اپنی رائے دیں (اختیاری)

آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے۔
ہمارا آن لائن سروے مکمل کرنے کے لیے وقت نکالنے کا شکریہ۔

smile""