نئے ہفتے کا آغاز ڈالر کی مضبوطی سے ہوا جبکہ بڑے امریکی اور یورپی اسٹاک انڈیکس کے فیوچرز میں دوبارہ کمی کا آغاز ہوا۔ مؤخر الذکر می کمی ہو رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ روس اور یوکرائن کی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ بھی خطرے کا سبب ہے
ڈالر کے حوالے سے یہ کہنا مناسب ہے کہ اس ہفتے انتہائی اتار چڑھاؤ کا اعادہ کیا گیا ہے۔ بدھ کو (19:00 جی ایم ٹی پر) فیڈرل ریزرو کے جنوری کے اجلاس ("ایف او ایم سی منٹس") کے منٹس شائع کیے جائیں گے۔
منٹس کی اشاعت فیڈ کی موجودہ پالیسی کے تسلسل اور امریکہ میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کے تعین کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اس میں اکثر یا تو تبدیلیاں ہوتی ہیں یا فیڈ ایف او ایم سی کے آخری اجلاس کے نتائج کے بارے میں تفصیلات واضح کی جاتی ہیں۔
جنوری کے اجلاس کے اختتام پر فیڈ رہنماؤں نے مارچ 2022 میں کیو ای پروگرام مکمل کرنے اور شرح سود میں اضافہ شروع کرنے کے لیے اثاثوں کی خریداری میں کمی میں تیزی لانے کے فیصلے کی تصدیق کی تھی ۔ فیڈ حکام 2022 میں شرح سود میں تین بار اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تاہم یہ معلومات ہیں کہ فیڈ کا ہنگامی اجلاس آج ہونے والا ہے جس میں مقررہ وقت سے قبل شرح سود بڑھانے کی ضرورت کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ محنت نے ملک میں صارفین کی افراط زر میں ایک اور اضافے کی اطلاع دی تھی۔ اس طرح جنوری میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں 0.6 فیصد (سالانہ بنیادوں پر +7.5 فیصد) کا اضافہ ہوا تھا اعداد و شمار نے پیش گوئیوں کے بر خلاف تھے جن میں توقع کی تھی کہ دسمبر میں 7.0 فیصد اضافے کے بعد سی پی آئی میں 7.2 فیصد اضافہ سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہوگا۔ یہ مسلسل آٹھواں مہینہ ہے جب سالانہ افراط زر کی شرح 5 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جو فیڈ کے 2 فیصد کے ہدف سے تقریبا 4 گنا زیادہ ہے۔ اس اضافہ کے ساتھ یہ خطرہ بڑھ رہا ہے کہ فیڈ بڑھتی ہوئی افراط زر سے نمٹنے کے قابل نہیں ہو سکتا اور اس سے افراط زر میں اضافہ کا خطرہ ہے جو ڈالر اور پوری امریکی معیشت کے امکانات دونوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
اگر اس ہنگامی اجلاس کے دوران فیڈ رہنما منصوبہ بندی سے قبل (مارچ میں) شرح سود بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ڈالر تیزی سے مضبوط ہوسکتا ہے۔
دریں اثنا کل 00:30 (جی ایم ٹی) پر ریزرو بینک آف آسٹریلیا (آر بی اے) کے فروری کے اجلاس کے منٹس شائع کیے جائیں گے۔ اس اجلاس کے نتیجے میں آر بی اے رہنماؤں نے اہم شرح سود 0.10 فیصد رکھی لیکن اپنی پیش گوئیوں پر یکسر نظر ثانی کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ معیشت ان کی توقع سے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آر بی اے اس وقت تک شرح سود بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتا جب تک افراط زر 2 فیصد سے 3 فیصد کے ہدف کی حد میں مستحکم نہیں ہو جاتا۔ بینک نے اپنے کوانٹی ٹیٹیو ایزنگ پروگرام کے خاتمے کا بھی اعلان کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ سرکاری بانڈ کی خریداری کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شرح سود فوری طور پر بڑھا دی جائے گی۔
آر بی اے کے گورنر فلپ لوکے مطابق ابھی تک "مختصر مدت میں مالیاتی پالیسی کو سخت کرنے کے حق میں کوئی سنجیدہ دلائل نہیں ہیں۔" ان کی رائے میں، "شرح سود میں اضافے میں کچھ وقت لگے گا۔" ایوان نمائندگان کی قائمہ کمیٹی میں حالیہ سماعت کے دوران لوو نے کہا کہ امکان ہے کہ اگر معیشت بینک کی پیش گوئیوں کے مطابق ہی رہتی تو رواں سال کے آخر میں شرح میں اضافے کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے جلد ہی تبدیل کر دیا کیا جائے گا۔ فلپ لوکے مطابق اس حقیقت کے باوجود کہ آسٹریلوی معیشت کورونا وائرس کی وبا سے نمٹ رہی ہے لیکن فی الحال اس کی ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
اس طرح فیڈ کے برعکس آر بی اے فی الحال اپنی مالیاتی پالیسی کے نرم راہ پر قائم رہے گا جس کا مطلب ہے کہ اے یو ڈی/ یو ایس ڈی کے لئے ایک اہم محرک امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے
عالمی اسٹاک انڈیکس میں کمی کے پس منظر میں تیل اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں آج کی کمی بھی کمیوڈٹی سے منسلک کرنسیوں پر دباؤ ڈالتی ہے جس میں سے ایک اہم کرنسی آسٹریلوی ڈالر ہے اور جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں اے یو ڈی / یو ایس دی آج واضح طور پر کمزور ہو رہا ہے، 0.7085 کی سطح کے قریب ایک یومیہ کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس لوکل سپورٹ لیول کے ٹوٹ جانے سے ہفتہ وار چارٹ پر ڈیسنڈنگ چینل کی نچلی سرحد پر قریب ترین ہدف کے ساتھ 0.6970 کے نشان سے گزرتے ہوئے مزید کمی واقع ہوگی۔
تکنیکی تجزیہ اور تجارتی تجاویز
آج امریکی ڈالر کی مضبوطی کے سبب کاروباری دن کی پہلے حصّہ میں اے یو ڈی/ یو ایس ڈی پئیر کی قدر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ابھی جب یہ لکھا جا رہا تو اس وقت اے یو ڈی / یو ایس ڈی بئیرش مارکیٹ زون میں تجارت کر رہا ہے، 0.7300 کی اہم طویل مدتی ریزسٹنس کی سطح سے نیچے (روزانہ اور ہفتہ وار چارٹ پر 200 ای ایم اے).
یہ کہ 0.7085 کے مقامی سپورٹ لیول کے ٹوٹ جانے کی صورت میں یہ پئیر یومیہ چارٹ پر ڈیسنڈنگ چینل کے اندر مزید بڑی کمی کا انتظار کر رہی ہے۔ اس کی زیزیں حد 0.6800 سے نیچے ہے۔ اس صورت میں درمیانی مُدت کے اہداف 0.7037 (38.2 فیصد فیبوناچی سپورٹ کی سطح ہوگی جو جولائی 2014 میں 0.9500 کی سطح سے کم ہو کر 0.5510 کی سطح کے قریب 2020 کی نچلی سطح تک)، 0.7000، 0.6970 (ہفتہ وار چارٹ پر اترتے ہوئے چینل کی کم حد) ہوگی۔
متبادل صورتحال میں اور اہم قلیل مدتی ریزسٹنس کی سطح 0.7136 (1 گھنٹے کے چارٹ پر 200 ای ایم اے)، 0.7156 (4 گھنٹے کے چارٹ پر 200 ای ایم اے) کے ٹوٹ جانے کے بعد، اضافہ کی تصحیح 0.7170 (روزانہ چارٹ پر 50 ای ایم اے)، 0.7190، 0.7270 (روزانہ چارٹ پر 144 ای ایم اے) کی ریزسٹنس کی سطح پر اہداف کے ساتھ جاری رہے گی۔ 0.7300 کی ریزسٹنس کی سطح کا ٹوٹ جانا صورتحال کو تبدیل کردے گا اور اے یو ڈی / امریکی ڈالر کو بُلش مارکیٹ زون میں لا سکتا ہے۔
اس دوران اے یو ڈی/ یو ایس ڈی عالمی مندی کے رجحان کے زون میں موجود ہے۔ لہذا شارٹ پوزیشنز کو ترجیح دی جانی چاہئے
سپورٹ لیولز: 0.7085, 0.7037, 0.7000, 0.6970, 0.6900, 0.6800, 0.6455
ریزسٹنس لیولز: 0.7136, 0.7156, 0.7170, 0.7190, 0.7270, 0.7300
تجارتی تجاویز
سیل سٹاپ 0.7080. سٹاپ لاس 0.7160. حصّولِ نفع 0.7037, 0.7000, 0.6970, 0.6900, 0.6800, 0.6455
بائے سٹاپ 0.7160. سٹاپ لاس 0.7080. حصّولِ نفع 0.7170, 0.7190, 0.7270, 0.7300