بولینجر بینڈ انڈیکیٹرز : تفصیل ، سیٹنگ اور استعمال: تفصیل ، سیٹنگ اور اس کا استعمال

دی بولینجر بینڈز ٹیکنیکل تجزیات کا انسٹرومنٹ ہے جو کہ کسی ایسٹ میں موجودہ ریٹ کے اتار چڑھاو کو ظاہر کرتا ہے جیساء کہ شئیر ، کیموڈٹی اور کرنسی وغیرہ

بولینجر بینڈز کا حساب موونگ ایوریج کی سٹینڈرڈ ڈیوی ایشن کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے - یہ عموما پرائس ڈائنیمک چارٹ پر موجود ہوتا ہے

بولینجر بینڈز اینولیپس کی طرح ہوتے ہیں - ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ اینولپس کے باڈرز عموما اوپر موجود ہوتے ہیں اور ایک مخصوص فاصلہ پر موونگ ایوریج سے نیچے ہوتے ہیں جو کہ فیصد پر ظاہر کئے جاتے ہیں جبکہ بولیجنر بینڈز کے باڈرز سٹینڈرڈ ڈیوی ایشن کے نمبر کے برابر فاصلہ پر لگائے جاتے ہیں - سٹینڈرڈ ڈیویشن کی ویلیو کا انحصار والٹیلٹی پر ہوتا ہے ، بولینجر بینڈ اپنی چوڑائی اپنے طور پر متعین کرتے ہیں یہ چوڑا ہو جاتا ہے کہ جب مارکیٹ میں خاصا اتار چڑھاو ہو جاتا ہے اور جب مارکیٹ میں استحکام ہوتا ہے تو یہ فاصلہ بھی کم ہو جاتا ہے

بولینجر بینڈز عمومی طور پر پرائس چارٹ میں لگتے ہیں لیکن یہ انڈیکیٹر چارٹ میں بھی لگ سکتے ہیں - اینولیپس کی طرح بولینجر بینڈز یہ بنیاد یہ ہے کہ قیمت بینڈز کی بالائی اور زیریں حدوں کے درمیان رہتی ہے - بطور انڈیکیٹر بولینجر بینڈز کی ایک اہم خاصیت ہے کہ یہ مارکیٹ کے اتار چڑھاو کے مطابق اپنی چوڑائی کو کم ذیادہ کرتا رہتا ہے - ذیادہ اتار چڑھاو کے دوران یہ بینڈز چوڑے ہو جاتے ہیں اور قیمت کو جگہ دیتے ہیں - کم اتار چڑھاو کے دوران یہ سکٹر جاتے ہیں اور حدوں کے درمیان رہتے ہیں

انڈیکیٹرز کے اہم خصائص

1. بینڈز کے سکٹر جانے کے بعد قیمت میں اچانک تبدیلی اتار چڑھاو کے کم ہونے کو ظاہر کرتی ہے

2. اگر قیمت بینڈ کی حدوں سے باہر جاتی ہے تو موجودہ رجحان کا جاری رہنا متوقع ہوتا ہے

3. اگر بینڈز کے باہر ہائی اور لوو ملیں اور اس کے بعد بینڈ کے اندر ہائی اور لوو لیولز ملیں تو رجحان میں تبدیلی ممکن ہوتی ہے

4. بینڈ کی باونڈری سے بننے والی پرائس موو عموما متضآد باونڈری تک پہنچ جاتی ہے

تازہ ترین نوٹ کی گئی صورتحال سے قیمت / اہداف کی پیشن گوئی میں آسانی ہوتی ہے

bollinger bands

حساب

بولینجر بینڈز تین لکیروں کے ساتھ بنتے ہیں - میڈین لائن ایم ایل یہ سادہ موونگ ایوریج ہے

ML = SUM [CLOSE, N]/N

بالائی لائن ٹاپ لائن ٹی ایل ایک درمیانی لائن ہے جو کہ اوپر کی جانب حرکت کرتی ہے جس میں سٹینڈرڈ ڈیوی ایشن کے مخصوص نمبر ہوتے ہیں جو کہ ڈی ہے

TL = ML + (D*StdDev)

زیریں لکیر {باٹم لائن ، بی ایل} ایک درمیانی لائن ہے جو کہ نیچے کی جانب جاتی ہے اور یہ سٹینڈرڈ ڈیوی ایشن کے نمبر سے مماثلت رکھتا ہے

BL = ML – (D*StdDev)

یہاں:

SUM (..., N) – این پریڈز کا مجموعہ

CLOSE – کلوزنگ پرائس

N – حساب کے لئے استعمال کئے گئے پریڈز کی تعدار

SMA – سادہ موونگ ایوریج

SQRT – سکوائر روٹ

StdDev – سٹینڈرڈ ڈیوی ایشن:

StdDev = SQRT(SUM[(CLOSE – SMA(CLOSE, N))^2, N]/N)

تجویز یہ ہے کہ درمیانی لائن کے طور پر 20 پریڈ سمپل موونگ ایوریج کو استعمال کیا جائے اور بینڈ کی باونڈریز کو جاننے کے لئے دو سینڈرڈ ڈیوی ایشنز کو استعمال کیا جائے - اس تمام کے علاوہ 10 پریڈ سے نیچے کی موونگ ایوریج ذیادہ فائدہ مند نہیں ہوتی ہے

   انڈیکیٹرز کی فہرست کی جانب واپسی    
انڈیکیٹرز کی فہرست کی جانب واپسی
ابھی فوری بات نہیں کرسکتے ؟
اپنا سوال پوچھیں بذریعہ چیٹ.