Support service
×

لیوریج

لیوریج
 
لیوریج مارجن کی رقم اور اس کے لئے مختص ادھار رقم کے درمیان تناسب ہے: 1:100, 1:200, 1:500 1:100 کی لیوریج کا مطلب یہ ہے کہ ایک تاجر کے پاس تجارتی اکاؤنٹ میں تجارت کے لئے درکار رقم سے 100 گُناہ کم بھی ہوسکتا ہے
 
قرض دینے کے تناسب کو لیوریج کہا جاتا ہے۔ اس کی قدر 1:1 سے 1:500 تک مختلف ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک صارف مارجن 500 گنا سے زیادہ رقم میں کرنسیاں خرید سکتا ہے/ فروخت کر سکتا ہے! مثال کے طور پر، اگر کوئی تاجر 1:100 لیوریج کا انتخاب کرتا ہے اور 100 ڈالر جمع کراتا ہے، تو اس کے 100*100=10,000 ڈالر میں کرنسی خریدنے کا موقع ہے۔ 
 
شرح میں موافق تبدیلی کے ساتھ کرنسی خریدنے کے بعد، ایک تاجر فروخت کرتا ہے، جس سے کرنسی کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے منافع حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ایک تاجر لین دین مکمل کرتا ہے۔ تجارت بند ہونے کے لمحے کریڈٹ خود بخود بند ہو جاتا ہے، مارجن تاجر کے اکاؤنٹ کے ساتھ ساتھ کمائے گئے منافع پر بھی رہتا ہے۔ یہ اسکیم تاجروں کو زرمبادلہ کی شرح میں معمولی تبدیلیوں کے ساتھ بھی بعض اوقات کسی مخصوص لین دین میں شامل مارجن کی رقم سے زیادہ نمایاں منافع حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ 
 
تاجر کا خطرہ صرف مارجن کی رقم تک محدود ہوتا ہے، کیونکہ ڈیلنگ سینٹر کھلے لین دین کی اصل رقم فراہم نہیں کرتا ہے، لیکن صرف معاہدے کے اختتام پر نقصان یا منافع کو مکمل طور پر کریڈٹ کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ لین دین کو بند کرنا اس کے برعکس عمل ہے: کرنسی کی ایک خاص مقدار خریدتے وقت، فروخت اسی حجم میں کی جاتی ہے اور اسی طرح کے برعکس بھی ہوتا ہے
 
لیوریج کی تعریف مارجن سے ملتی جُلتی ہے۔ اس کے باوجود بغور دیکھیں تو ان دونوں میں فرق ہیں۔ لیکن ایک سیکولیٹر کے لئے، فائدہ ایک ہی ہے: جتنی بڑی لیوریج ہوتی ہے ، اتنا ہی اس کے اپنی رقم اور نفع بخش قیاس آرائیوں کے لین دین کا تناسب ہے۔ یہ خود تجارت کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟ آئیے مارجن کی تاریخ سے شروع کرتے ہیں۔
 
ابتدائی طور پر مارجن تجارت کا اصول کمیوڈٹی مارکیٹوں میں لین دین سے وابستہ تھا۔ انیسویں صدی میں کمیوڈٹیز کے تبادلے وہ منڈیاں تھیں جن پر نقد تجارت کی جاتی تھی۔ لین دین کی عمل داری، رقم کی منتقلی اور اکاؤنٹ مینجمنٹ کے لئے خدمات فراہم کرنے والے اس مارکیٹ کے ڈیلر تھے۔ ڈیلر نے ریکارڈنگ کا ایک خاص طریقہ، نام نہاد "سرکل" ریکارڈنگ کا استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹس برقرار رکھے۔ یہ طریقہ سامان کی بار بار دوبارہ فروخت پر صارفین کے درمیان کھاتوں کو طے کرنے کے لئے سب سے موثر تھا۔ 
 
حساب کتاب کے دائرے کے طریقہ کار کا اطلاق 1920 کی دہائی تک فیوچر مارکیٹ میں کیا گیا تھا کہ جب تک یہ ضروریات کو پوری کرتا تھا۔ اس طریقہ کار کے تحت، ایکسچینج ممبران جو معاہدے کر رہے تھے انہیں معاہدے کے شرکاء کی حیثیت سے ان معاہدوں کے ذریعہ مقرر کردہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا تھا۔
 
معاہدے کی ذمہ داریوں کے نفاذ کے ذمہ دار صرف وہی تھے۔ اس طرح کے تصفیے کے نظام کی بدولت گاہکوں کو ایکسچینج کنٹریکٹ پر عمل درآمد کے لئے مالی ضمانت کے طور پر اپنی رقم جمع کرانے کی ضرورت نہیں تھی اور وہ کم قیمتوں پر تجارت سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ 
 
تصفیوں کا سابقہ طریقہ اس وقت زیادہ فائدہ مند تھا کہ جب زیادہ تر لین دین خالصتا تجارتی ہوتا تھا، یعنی معاہدوں کی خرید و فروخت سے اشیاء یا خود اشیاء کی حقیقی مانگ ظاہر ہوتی تھی۔ ایکسچینج کے اراکین کے پاس کسی بھی شرط کے تحت ذمہ داریوں کے نفاذ کی ضمانت دینے کے لئے کافی مالی اثاثے ہونے تھے۔

اپنی رائے شیئر کریں

آپ کا شکریہ! کیا آپ کچھ شامل کرنا چاہیں گے؟

آپ کو موصول ہونے والے جواب کی درجہ بندی کیسے کریں گے؟

اپنی رائے دیں (اختیاری)

آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے۔
ہمارا آن لائن سروے مکمل کرنے کے لیے وقت نکالنے کا شکریہ۔

smile""